سیکس ایجوکیشن ، زنانہ مسائل
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال:میں ایک سال سے زائد عرصے سے حاملہ ہونے کی کوشش کر رہی ہُوں تاہم ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہُوئی۔اِس بات کا کوئی حل ہے؟
جواب: بانجھ پن /ہلکے درجے کا بانجھ پن (حاملہ ہونے کی صلاحیت نہ ہونا) کے ورک اَپ میں ،میاں اور بیوی دونوں کے لئے لیباریٹری سے تفصیلی چیک اَپ کیا جانا شامل ہے۔فرض کیجئے کہ آپ کیلئے تمام چیک اَپ کئے جاچکے ہیں اور یہ نارمل ہیں توایسی صورت میں ،حمل قائم کرنے کے ایسے طریقوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ،براہِ کرم03005550166پررابطہ کیجئے ۔
سوال :لیکوریا کیا ہے؟ کیا یہ بانجھ پن کا سبب بنتا ہے؟
ہر عورت کی فُرج میں سے کچھ رطوبتوں کا اخراج ہوتا ہے ۔کیمیائی توازن قائم رکھنے کے لئے ،یہ اخراج ،فرج کا نارمل دفاعی نظام ہوتا ہے ۔اور اِس اخراج کے ذریعے فُرج کے عضلات کی نارمل لچک بھی قائم رہتی ہے۔تاہم اگر اِس اخراج کی مقدار واضح طور پر بڑھ جاتی ہے اور یہ سفید رنگ کی گاڑھی رطوبت بن جائے تو اِسے لیکوریا کہا جاتا ہے ۔یاد رکھئے کہ، اگر فُرج سے ہونے والے اخراج کا رنگ زردی مائل ہو اور اِس کی بُو ناگوار ہو تو اِسے لیکوریا کہا جاتا ہے ۔ممکن ہے کہ یہ کسی انفکشن یا سرطان کی علامت ہو۔کئی مرتبہ لیکوریاکی وجہ سے سوزاک ہوجاتا ہے ۔ کچھ کیسز میں لیکوریا کی وجہ سے بیضے ضائع ھو جاتے ہیں اور یہ مردانہ سپرمز کی ھلاکت کا سبب بھی بنتا ہے۔لیکوریا کی وجہ سے رحم کا ورم ہوجاتاھے۔
لیکوریا کا سب سے زیادہ اہم سبب ہارمون ایسٹروجین اور دِیگر ہارمونی عدم توازن ہوتے ہیں۔ایسٹروجین ایک زنانہ جنسی ہارمون ہوتا ہے جو جسم کے مختلف افعال کو کنٹرول کرتا ہے ۔ایسٹروجین اور دِیگر ہارمونی عدم تواز ن بانجھ پن (حاملہ ہونے کی صلاحیت نہ ہونا)کا سبب بن سکتے ہیں ۔لہٰذا لیکوریا کی وجہ سے حمل قائم ہونے میں دشواری پیدا نہیں ہوتی بلکہ لیکوریا کے اسباب ،حمل قائم کرنے میں دشواری کا سبب بنتے ہیں۔ مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ،براہِ کرم03005550166پررابطہ کیجئے ۔
جواب: زیادہ تر صورتوں میں یہ رطوبت منی ہوتی ہے ۔یہ کیفیت پراسٹیٹ غدود کی سُوجن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔پراسٹیٹ غدود مَردانہ جنسی غدود ہوتا ہے جو مثانے کے نیچے واقع ہوتا ہے اور اِ سکے ذریعے منی بنتی ہے ۔ مَردانہ جرثومے انزال کے دوران منی میں تیرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔
بعض مَردوں میں ،جنہیں اکثر و بیشتر انزال ہوتا ہے (مثلأٔ ایسے مَرد جو اکثر وبیشتر خود لذّتی کا عمل کرتے ہیں) تو ایسی صورت میں پراسٹیٹ غدود کا فعل تیز ہوجاتا ہے ،پھر یہ غدود منی سے بھر جاتا ہے ، اِس کے بعد جب متعلقہ فرد پیشاب کرتا ہے تو اُس کا مثانہ جب پیشاب کے اختتام پر آخری چند قطرے خارج کرتے ہوئے در حقیقت پراسٹیٹ غدود پر دباؤ پڑنے کا سبب بن جاتا ہے اور اِس طرح منی کے چند قطرے باہر نکل آتے ہیں ۔اُکڑوں بیٹھنے کی صورت میں یہ کیفیت زیادہ پیدا ہوتی ہے کیوں کہ اس صورت میں پراسٹیٹ غدود پر دباؤ پڑتا ہے۔ آپ خود مشاہدہ کریں کہ یہ منی ھے یا پیپ اگر پیپ ھے تو علاج لازم ہے۔ منی کی صورت میں ٹھنڈی اشیاء کے استعمال سے
یہ کیفیت چند ماہ میں خود بخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ کیفیت جاری رہتی ہے تو آپ کو کسی اچھے یورولوجسٹ سے مشورہ کرنا چاہئے۔ مستقل قبض ہونے کی وجہ سے حاجت کے دوران زور لگانے کی وجہ سے بھی قطرے خارج ہوسکتے ہیں۔
سوال: مجھے کس طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ میرا کنوارہ پن ختم ہوگیا ہے؟
جواب: عام طور پر ،کنوارہ پن کو پردہ بکارت کے سالم ہونے سے منسلک کیا جاتا ہے۔پردہ بکارت ایک باریک جِھلّی ہوتی ہے جو فُرج کی دیواروں کے درمیان تنی ہوئی ہوتی ہے اور اِس کے بیچ میں ایک چھوٹاسوراخ ہوتا ہے۔جنسی ملاپ کے نتیجے میں اِس پردہ بکارت کے پھٹ جانے کو ،عام طور پر کنوارہ پن ختم ہوجاناکہا جاتا ہے۔اور اِس کے پھٹ جانے سے جنسی ملاپ کے بعد کچھ خون آتا ہے۔یہ بات جاننا بھی اہم ہے کہ چند عورتوں میں ،پردہ بکارت کی جِھلّی اِس قدر لچک دار ہوتی ہے اور اِس کا سوراخ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اِس میں سے عضو تناسل آسانی سے فُرج میں داخل ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں پردہ بکارت پھٹتا نہیں ہے۔
ایک بار پردہ بکارت کے پھٹ جانے اور کنوارہ پن ختم ہوجانے کے بعد کسی بھی طبّی طریقے سے اِس عمل کو پلٹایا نہیں جا سکتا ۔مگر ہماری میڈیسن ورجن پلس کے ذریعےسے فرج کودوبارہ تنگ کیا جا سکتا ہے۔ شادی شدہ خواتن یا ایسی خواتین جو بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے کھلے پن سے پریشان ہوں یا خاوند کے تانوں سے لازما علاج کروائیں خواتین میسج کر سکتی ہیں 03005550166 آپ کا علاج رازداری کے ساتھ ہوگا۔
سوال: میری ماہواری بے قاعدگی سے کیوں آتی ہے ؟ کیا میں اس صورت میں بھی حاملہ ہو سکتی ہُوں؟
جواب: جب ماہواری کا دورانیہ5دِن سے کم یا 9دِن سے زیادہ ہو تو اِسے بے قاعدہ ماہواری کہا جاتا ہے۔اور اگر ماہواری کے دورانیوں میں ماہ بہ ماہ کافی دنوں کا فرق آتا ہو ،یہ فرق نارمل حد کے اندر بھی ہو ،تو اِسے بے قاعدہ ماہواری کہا جاتا ہے ۔
ماہواری میں بے قاعدگی کے بعض اسباب میں ،بچّہ دانی کی بناوٹ میں خرابیاں، ذہنی تناؤ، ہارمونز کا عدم توازن، انفکشنز، ادویات (مثلأٔ مانع حمل ادویات)،حمل اور اسقاط حمل کے مسائل اور دِیگر طبّی وجوہات وغیرہ شامل ہیں۔
ماہواری میں بے قاعدگی کے سبب اور حاملہ ہونے کے اِ مکانات کے درمیان کا فی زیادہ تعلق ہوتا ہے ۔بعض اوقات، بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری، متعلقہ عورت میں انڈے خارج نہ ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ بیضہ دانیوں سے انڈے خارج نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ عورت حاملہ نہیں ہوسکتی۔
بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری ،بیضہ دانیوں میں گلٹیاں (polycystic ovarian syndrome, PCOS) ہونے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بھی اگر بیضہ دانیوں سے انڈے خارج ہورہے ہوں تو متعلقہ عورت حاملہ ہوسکتی ہے ۔ بعض اوقات ،بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری، ہارمونز کے لطیف عدم توازن کی علامت ہوتی ہے تاہم اِس صورت کے باوجود ماہ بہ ماہ بیضہ دانیوں سے انڈوں کا اخراج ہورہا ہوتا ہے ۔صِرف یہ کہ انڈوں کے اخراج کے دِنوں میں کافی تبدیلی آتی ہے۔انڈے خارج ہونے کی صورت میں ،بارآوری کی کسی دوا کے بغیر بھی،متعلقہ عورت حاملہ ہو سکتی ہے۔
بے قاعدگی سے آنے والی ماہواری کا ایک اور سبب۔ ۔ ۔ وزن میں زیادتی یا وزن کی کمی بھی ماہواری کے دورانیوں میں خلل ڈال سکتی ہے۔بہت زیادہ ورزش کرنا اور بہت زیادہ ڈائٹنگ کرنا بھی ،ماہواری میں بے قاعدگی پیدا کرنے کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔
بے قاعدہ ماہواری کی صورت میں حاملہ ہونازیادہ مشکل ہوجاتاہے ،تاہم اِس کے معنیٰ یہ نہیں کہ آپ لازمی طور پر حاملہ نہیں ہو سکتیں۔بے قاعدہ ماہواری ہونے کی صورت آپ کافی جسمانی عوارض کا شکار ہو سکتی ہیں۔خواہ آپ حاملہ ہونے کی کوشش نہ بھی کر رہی ہوں تب بھی اپنا معائنہ کروالینا بہتر ہوتا ہے۔
سوال: بارآوری کا عرصہ کیا ہوتا ہے؟ اِس کاحساب کس طرح لگایا جاتا ہے؟
جواب: عورت کے ماہانہ تولیدی دورانئے میں وہ عرصہ جس کے دوران اُس کے حاملہ ہونے کے اِمکانات بہت زیادہ ہوں ،اِس عرصے کوبارآوری کا عرصہ کہا جاتاہے۔
اِس عرصے کا حساب لگانے سے پہلے، متعلقہ عورت کو 6ماہ تک اپنی ماہواری کے بارے میں تفصیلی مشاہدہ کرنا ہوتا ہے۔ہر ماہ گزشتہ ماہواری کے آخری دِن اور نئی ماہواری کے پہلے دِن کے درمیان گزرنے والے دِنوں کو نوٹ کیجئے۔پھر ایسے طویل ترین اور مختصر ترین وقفوں کو نوٹ کیجئے ۔اب حساب لگایا جاسکتا ہے۔
اِن دِنوں کا درست حساب لگانا مشکل ہوتا ہے ،آپ کو کاغذ اور قلم کی ضرورت پیش آئے گی۔مختصر ترین وقفے سے ہمیشہ 18دِن کم کئے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر، اگر گزشتہ 6ماہ کے دوران ،ایک ماہواری کے اختتام اور دوسری ماہواری کے آغاز کے درمیان ،مختصر ترین وقفہ 27دِن کا تھا تو اِس میں سے 18دِن کم کرنے کے بعد ، آپ کی ماہواری کے آغاز سے 9 دِن بنتے ہیں۔
طویل ترین وقفے سے ہمیشہ 11دِن کم کئے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر، اگر گزشتہ 6ماہ کے دوران ،ایک ماہواری کے اختتام اور دوسری ماہواری کے آغاز کے درمیان ،طویل ترین وقفہ 31دِن کا تھا تو اِس میں سے 11دِن کم کرنے کے بعد ، آپ کی ماہواری کے آغاز سے 20 دِن بنتے ہیں۔اِس مثال میں دیئے ہوئے اعدادوشمار کو استعمال کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ، حمل ہونے کا اِمکان ، نویں اور بیسویں دِن کے درمیانی عرصے میںسب سے زیادہ ہوگا۔واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار صِرف مثال کے طور پر پیش کئے گئے ہیں ۔آپ کو اپنے لئے یہ حساب اپنے بارے میں مشاہدہ کر کے خود لگانا ہوگا،آپ کے لئے کون سے عرصے میں بارآوری کا اِمکان سب سے زیادہ ہے اور کون سے عرصے میں اِس کا اِمکان کم ہے۔
اگر آپ کی ماہواری میں زیادہ بے قاعدگی ہے تو بارآوری کے عرصے زیادہ طویل ہوں گے۔
سوال: کیا مقعد کے راستے جنسی ملاپ کرنا محفوظ ہوتا ہے؟
جواب: صحت سے وابستہ خطرات کی وجہ سے ،مقعد کے راستے جنسی ملاپ کرنے کی طبّی لحاظ سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ مقعد کے راستے جنسی ملاپ کرنے سے مختلف اقسام کے انفکشنز ،بشمول جنسی انفکشنز ،کا ایک ساتھی سے دوسرے ساتھی کو منتقل ہونے کا اِمکان بہت بڑھ جاتاہے۔اِس کے علاوہ ، خاتون ساتھی میں، اِس کی وجہ سے جرّاحی کے امراض مثلأٔ پاخانے کی بے قاعدگی،سوزاک مقعد کا پھٹ جانا اور بھگندر (fistula) وغیرہ بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔
البتّہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مُنہ کے ذریعے جنسی تحریک دینے کے عمل (oral sex)میں ایچ پی وی نامی وائرس(Human Papilloma Virus, HPV) جنسی اعضاء سے مُنہ میں منتقل ہو سکتا ہے ۔یہ دیکھا گیا ہے کہ اِس وائرس کی وجہ سے گلے کا سرطان ہو سکتا ہے۔ہیضہ ہو سکتا ہے۔
کا ہونا (Polycystic Ovarian Syndrome, PCOS)سوال:یہ مرض کیا ہوتا ہےبیضہ دانیوں میں گلٹیوں ؟
بیضہ دانیوں میں گلٹیوں (Polycystic Ovarian Syndrome, PCOS)کا مرض ایک ہارمونی مسئلہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے متعلقہ عورت میں بہت سی مختلف علامات ظاہر ہوتی ہیں مثلأٔ،
٭ بے قاعدہ ماہواری یا ماہواری کا نہ آنا۔
٭ ا یکنی۔
٭ مُٹاپا۔
٭ بالوں کی زیادہ افزائش۔
٭ جِلد میں چکنائی۔
٭ سَر کے بالوں میں خشکی۔
٭ بانجھ پن۔
٭ جِلد کا رنگ تبدیل ہوجانا ۔
٭ کولیسٹرول کی بلند سطح۔
٭ بلڈ پریشر کا بڑھ جانا،اور
٭ بالوں کی خلاف معمول افزائش اور طرز ۔
مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی بھی علامت ،بیضہ دانیوں میں گلٹیوں (Polycystic Ovarian Syndrome, PCOS) کے مرض کی صورت میں ممکن ہے کہ ظاہر نہ ہو۔بیضہ دانیوں میں گلٹیوں (PCOS) کے مرض والی تمام عورتوں کی ماہواری میں بے قاعدگی ہوگی یا اُنہیں ماہواری نہیں آئے گی۔اِ س مرض کی صورت میں متعلقہ عورت کی بیضہ دانیاں ،باقاعدگی سے انڈے خارج نہیں کرتی ہیں یعنی بیضہ دانیاں ہر ماہ انڈے خارج نہیں کرتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی عورتوں کو ماہواری باقاعدگی سے نہیں آتی۔
سوال: میرے چہرے پر بال کثرت سے کیوں ہیں؟ کیا اِس بات کا میری جنسیت سے کوئی تعلق ہے؟
جواب: جب چہرے پر بال کثرت سے اُگتے ہیں یا جسم کے ایسے حِصّوں پر جہاں معمول کے مطابق اختتامی بال (terminal hair) نہیں اُگتے یا بہت ہی کم ہوتے ہیں،تو اِس کیفیت کو Hirsutism کہا جاتا ہے ۔اِس کیفیت کا سبب بہت سی مختلف طبّی صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ عام طور پر کسی حد تک ہارمونی عدم توازن کی علامت ہوتی ہے۔ Hirsutism کی کیفیت جسم میں andronic ہارمون کی کثرت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ،لہٰذا اِس کیفیت کو ماہواری کی بے قاعدگیوں اور انڈوں کے اخراج کے مرض میں دیکھا جاتا ہے۔
سوال: حمل کے دوران مجھے کیا کھانا چاہئے؟
جواب: حمل کے دوران صحت مند غذا میں روزانہ چار مرتبہ ڈیری کی بنی ہوئی اشیاء استعمال کرنا چاہئے۔ڈیری کی بنی ہوئی اشیاء ،کیلشیم اور وٹامن ’ڈی‘ کا اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔آپ دودھ یا دہی میں سے کوئی چیز استعمال کر سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور پنیر کو بھی ڈیری کی اشیاء میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔
آپ کوہر روز،لحمیات (پروٹین) کے لئے دَو بار پتلا گوشت استعمال کرنا چاہئے ۔مثلأٔ چِکن،گائے کاگوشت، بھیڑ کا گوشت، مچھلی اور دِیگر سمندری غذا وغیرہ۔تاہم اِس بات سے ضرور آگاہ رہئے کہ سمندری غذا میں سے بعض غذائیں ۔ ۔ ۔ خاص طور پر مچھلی جس میں پارہ (مرکری) اور سُوشی موجود ہوسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ حمل کے دوران محفوظ غذا نہیں ہوتیں۔اگر آپ صِر ف سبزیاں کھاتی ہیں (گوشت استعمال نہیں کرتیں) تو اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بِین اور پنیر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے
ہر روز ایک یا دَوبار ،ہری ،تازہ اور پتّوں والی سبزیاں بھی اپنی غذا میں شامل کرنا چاہئے۔سلاد کے پتّے ، بند گوبھی ،پالک کے پتّے ،شلجم کے پتّے جیسی سبزیاں اسی درجے میں شمار ہوتی ہیں۔
آپ کو ہر روز مکمل اناج سے بنی ہوئی غذا بھی پانچ مرتبہ لینا چاہئے ۔مکمل اناج سے بنی ہوئی اشیاء سے نہ صِرف بہت سے وٹامنز اور معدنیات فراہم ہوتی ہیں ،اِن اشیاء سے ریشے کی بھی وافر مقدار دستیاب ہوتی ہے۔حاملہ عورتوں میں قبض ہوجانے کا رُجحان بھی پایا جاتا ہے ،اور مکمل اناج اِس حوالے سے بڑا مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔مکمل گیہوں کی روٹی ایک اچھا انتخاب ہے۔مکمل اناج مثلأٔ جَو کاآٹا بھی ایک اچھا انتخاب ہے۔
آپ کو ہر روز، کم از کم ایک بار ایسے پھل بھی کھانا چاہئیں جن میں وٹامن ’سی‘ کثرت سے پایا جاتا ہے۔ایسے پھلوں میں نارنگی یا انگوریا ٹماٹر ہوسکتے ہیں ۔یہ جوس کی صورت میں بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں اگرچہ سالم/مکمل پھل قابلِ ترجیح ہے ، کیوں کہ اِس طرح زیادہ ریشہ اور غذائیت حاصل ہوتی ہے ۔
آپ کو اپنی روزانہ کی غذامیں ، دَو انڈے بھی شامل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے ۔انڈے، لحمیات (پروٹین)حاصل کرنے کا عمدہ ذریعہ ہوتے ہیںاور اِن میں بہت سے وٹامنزاور معدنیات بھی ہوتی ہیں ، جن سے آپ کے جسم کو فائدہ پہنچتا ہے ،اور اِن میں صحت مند کولیسٹرول بھی ہوتا ہے جس سے آپ کے ہونے والے بچّے کے دِماغ کی نشوونما میں مدد حاصل ہوگی۔
حمل کے دوران صحت مند شحمیات (fats) بھی ایک اور اہم غذائی جُز ہوتی ہیں ۔بیجوں کے تیل، زیتون کا تیل، یا آڑو بھی اچھا انتخاب ہیں ۔عبوری چکنائیوں (مثلأٔ بناسپتی وغیرہ) سے گریز کیجئے ۔اور روزانہ تین بار صحت مند چکنائی کا استعمال کرنے کا مقصد ذہن میں رکھئے۔ایسی خواتین جن کو اٹھراء کا مسلئہ ہو وہ تمام قسم کی چکناہٹ سے گریز کریں ورنہ حمل گرنے کاخطرہ ہے۔
ہر ہفتے پانچ بار، اپنی غذا میں کچھ گاجریں شامل کیجئے ۔گاجریں بِیٹا کیروٹین (beta carotene) کچھ غذاوں کے ذریعے جسم میں وٹامن ’اے‘بنتا ہے ۔
اور آخر میں، ہفتے میں تین بار مکمل/سالم سِکے ہوئے آلوکو شامل کیجئے ۔سِکے ہوئے آلو میں آسانی سے ہضم ہونے والا آئرن ہوتا ہے ۔حاملہ عورتوں کو حمل کی پوری مُدّت کے دوران آئرن کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اِ ن راہ نما اُصولوں کے علاوہ ، آپ کو پانی اور دِیگر مائعات بھی کثرت سے پینا چاہئیں۔اگر آپ کے ڈاکٹر نے خاص طور پر آپ کو منع نہ کیا ہو تو آپ کو اپنی غذا میں نمک حسب ذائقہ شامل کرنا چاہئے ۔اِس کے ذریعے آپ کے خون کا حجم (volume) محفوظ طریقے سے بڑھنے میں مدد ملتی ہے ۔
سوال: میری ماہواری،کم مواقع پر کیوں آتی ہے ؟
جواب: کم مواقع پر آنے والی ماہواری کی کیفیت کو Oligomenorrhea کہا جاتا ہے ۔عورتوں کے لئے یہ بات بالکل فطری ہوتی ہے کہ اُن کی تولیدی زندگی کے آغاز اور اختتام پر یا تو ماہواری بالکل نہیں آتی یا یہ بے قاعدگی سے آتی ہے ۔کسی ظاہری سبب کے بغیر ،بعض عورتوں کو ہر دَو ماہ بعد کم مواقع پر ماہواری آتی ہے ۔ایسی عورتوں کے لئے یہ بات معمول ہوتی ہے اور اُن کے لئے یہ کوئی فکر مندی کی بات نہیں ہوتی۔
جن عورتوں کی بیضہ دانیوں میں گلٹیاں ہوتی ہیں ( ُPCOS)اُن کے لئے Oligomenorrheaہوجانے کا اِمکان بھی موجود ہوتا ہے ۔PCOSکے مرض میں متعلقہ عورت کی بیضہ دانیوں میں گلٹیاں بھر جاتی ہیں ۔دِیگر جسمانی اور جذباتی عوامل بھی ماہواری نہ آنے کا سبب بنتے ہیں ۔اِن عوامل میں درجِ ذیل شامل ہیں۔
٭ جذباتی تناؤ/دباؤ۔
٭ پُرانی بیماری۔
٭ غذائی نقص۔
٭ کھانے پینے کی خرابیاں مثلأٔ anorexia nervosa۔
٭ کثرت سے ورزش کرنا۔
٭ ایسٹروجین خارج کرنے والی گلٹیاں /گومڑے ۔
٭ بچّہ دانی یا اِس کے مُنہ کی بناوٹ میں خرابیاں جو ماہواری کے خون کے باہر آنے میں رُکاوٹ بنتی ہیں ۔
٭ کھیلوں میں بہتر کارکردگی حاصل کرنے کے لئے ، anabolic steroid drugsکے غیر قانونی استعمال کی وجہ سے۔
کم ماہواری آنے کے بعض دِیگر زیادہ پیچیدہ اسباب بھی ہو سکتے ہیں ،لہٰذآپ کو کسی اچھی گائینوکولوجسٹ سے،جَلد از جَلد ،مکمل جائزے اور ممکنہ طور پر مطلوبہ علاج کے لئے رابطہ کرنا چاہئے ۔
سوال: ماہواری کے دِنوں میں میرے پیٹ میں اینٹھن اور درد کیوں ہوتا ہے ؟
جواب: ماہواری کے دِنوں میں ،کسی نہ کسی درجے کی اینٹھن سے ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد عورتیں متاثر ہوتی ہیں۔اور ایسی عورتوں میں سے 15فیصد عورتوں کو شدید درجے کی اینٹھن محسوس ہوتی ہے ۔اِس کیفیت سے منسلک کئے جانے والے عام عوامل درجِ ذیل ہیں۔
٭ 30سال سے کم عمر ہونا ۔
٭ جسمانی وزن کا کم ہونا۔
٭ ماہواری کا جَلد آغاز ہوجانا ۔
٭ ماہواری کا دورانیہ طویل ہونا۔
٭ زیادہ مقدار میں ماہواری آنا۔
٭ نچلے پیٹ کی سُوجن کی بیماری (PID) ہونا۔
٭ بچّے نہ ہونا۔
٭ نفسیاتی امراض ہونا۔
٭ اینٹھن کے علاج کے لئے معمول کی درد ختم کرنے والی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔جسمانی ورزش سے بھی ماہواری کی اینٹھن کو دُور کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ماہواری کی اینٹھن عمر بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔
سوال: جب سے میں نے مُنہ کے ذریعے لی جانے والی مانع حمل ادویات کا استعمال شروع کیا ہے میری جنسی خواہش میں کافی کمی آگئی ہے ۔کیوں؟
جواب: مُنہ کے ذریعے لی جانے والی مانع حمل گولیوں کے دِیگر ذیلی اثرات کے علاوہ،چند عورتوں میں اِن گولیوں کی وجہ سے جنسی خواہش ،جنسی لطف اور جنسی ملاپ کے دوران فُرج کی چکناہٹ میں کمی ظاہر ہوتی ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس کا سبب یہ ہے کہ یہ گولیاں عورت کے جنسی ہارمونز پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔
اگر آپ یہ محسوس کرتی ہیں کہ اِن گولیوں کے استعمال سے آپ کی جنسی خواہش میں کمی آگئی ہے تو شاید آپ صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں سے اِس سلسلے میں بات کرنا چاہیں گی۔عین ممکن کہ مانع حمل گولیوں کے استعمال کی وجہ سے جنسی خواہش میں کمی آگئی ہو، لیکن اِس کے معنیٰ لازمی طور پر یہ نہیں کہ آپ اِن گولیوں کا استعمال ترک کر دیں۔ اِس کے بجائے ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے آپ کے لئے کوئی دوسری قِسم کی گولی تجویز کر سکتے ہیں جو آپ کی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کرتی ہو۔بہت سی عورتیں محسوس کرتی ہیں کہ واحد مرحلے والی مانع حمل گولیوں (یہ گولیاں ہر خوارک کے ساتھ ہارمونز کی یکساں مقدار فراہم کرتی ہیں)کی نسبت تین مرحلے والی گولیاں(یہ گولیاں ہر ہفتے ہارمونز کی مختلف مقدار فراہم کرتی ہیں) ،جنسی خواہش میں بہت کم خلل ڈالتی ہیں۔تاہم یہ بات ذہن میں رکھئے کہ گولیوں کی قِسم تبدیل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ہارمونز کے تمام طریقے اِس قِسم کے پریشان کُن اثرات پیدا کرتے ہیں۔
سوال: اگر مشترکہ (کمبائنڈ) مانع حمل گولی لینا بھول جائیں تو کیا ہوگا؟
جواب: مشترکہ (کمبائنڈ) مانع حمل گولی میں دَو ہارمونز ہوتے ہیں ،یعنی ایسٹروجین اور پراجیسٹوجین۔زیادہ تر عورتوں کو جو مشترکہ (کمبائنڈ) مانع حمل گولی لینا بھول جاتی ہیں اُنہیں حمل ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا۔
جس بھی قِسم کی مشترکہ (کمبائنڈ)مانع حمل گولی آپ لیتی ہیں تواِن گولیوں کے پیکٹ میں سے کسی بھی مرحلے میں ایک گولی لینا بھول جانے سے حمل ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا اگر:
٭ آپ نے پیکٹ میں سے باقی تمام گولیاں درست طریقے سے استعمال کی ہیں۔
٭ کسی اور چیز سے اِن گولیوں کا عمل ختم نہیں ہُوا ہے۔
٭ آپ نے گولیوں کے آخری پیکٹ میں سے آخری ہفتے میں گولیاں درست طریقے سے استعمال کی ہیں۔
آپ کو درجِ ذیل اُمور کی ضرورت نہیں :
٭ ایمرجنسی مانع حمل گولیاں لینا۔
٭ کوئی اِضافی مانع حمل دوا لینا۔
٭ گولیوں میں وقفہ کرنا یا بغیر دوا والی گولی (placebo)نہ لینا اور اگلا پیکٹ فور طور پر شروع کرنا۔
آپ باقی بچ جانے والی گولیوں کا استعمال معمول کے مطابق جاری رکھ سکتی ہیں۔
اگر آپ کسی مرحلے میں پیکٹ میں سے،ایک سے دَو گولیاں لینا بھول گئی ہیں تو بُھولی جانے والی آخری گولی کو اب استعمال کر لیجئے۔
٭ پیکٹ میں سے باقی گولیوں کا استعمال معمول کے مطابق جاری رکھئے ۔
٭ کسی اِضافی مانع حمل دوا کی ضرورت نہیں ہے ۔
٭ 7 دِن کا وقفہ معمول کے مطابق کیجئے ۔
٭ ایمرجنسی مانع حمل دوا/گولی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ۔
اگر آپ،تین یا اس سے زائد گولیاں لینا بھول گئی ہیں تو:
٭ بُھولی جانے والی آخری گولی کو اب استعمال کر لیجئے۔
٭ پیکٹ میں سے باقی گولیوں کا استعمال معمول کے مطابق جاری رکھئے ۔
٭ پہلے بُھولی جانے والی گولیوں کو چھوڑ دیجئے۔
٭ اگلے سات دِ ن تک ،مانع حمل کے لئے کوئی اِضافی طریقہ استعمال کیجئے۔
٭ اگر گزشتہ چند دِنوں کے دوران آپ نے غیر محفوظ جنسی ملاپ کیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو ایمرجنسی مانع حمل کی ضرورت پیش آئے ۔مشورہ حاصل کیجئے ۔
اگر بُھولی جانے والی گولی کے بعد پیکٹ میں سے سات یا اس سے زائد گولیاں رہ گئی ہیں تو:
٭ پیکٹ کو ختم کر لیجئے ۔
٭ معمول کے مطابق سات دِن کا وقفہ کیجئے یا بغیر دوا والی گولیاں (placebo) استعمال کیجئے ۔ اگر بُھولی جانے والی گولی کے بعد پیکٹ میں سے سات سے کم گولیاں رہ گئی ہیں تو:
٭ پیکٹ کو ختم کر لیجئے اور اگلے دِن سے نیا پیکٹ شروع کیجئے (اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ وقفہ نہ کیا جائے یا بغیر دوا والی گولیاں placebo نہ استعمال کی جائیں ) اگر آپ موجودہ پیکٹ میں سے گولیاں لینا بُھول گئی ہیں اور پچھلے پیکٹ میں سے بھی گولیاں لینا بُھول گئی تھیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کو ایمرجنسی مانع حمل گولیاں لینے کی ضرورت ہو ،لہٰذا اپنی ڈاکٹر یا نرس سے،اِس سلسلے میں بات کیجئے۔
سوال: میں مانع حمل استعمال کر رہی ہُوں لیکن اگر حمل ہوجائے توکیا کیا جائے؟
جواب: مانع حمل کا کوئی بھی طریقہ 100 فیصد محفوظ نہیں ہے ۔اگر آپ سمجھتی ہیں کہ آپ حاملہ ہوگئی ہیں تو ،حقیقت معلوم کرنے کے لئے اپنی ڈاکٹر سے جَلد ازجَلد رابطہ کیجئے ۔وہ آپ کو حمل کی اچھی دیکھ بھال کے بارے میں بتا سکتی ہیں ،مثلأٔ اپنے حمل کو جاری رکھنے کی صورت میں فولک ایسڈ کا استعمال کرنا اور تمباکو نوشی ترک کرنا ،یا اگر آپ کو جاری نہ رکھنا چاہیں تووہ اِس حوالے سے آپ سے بات کر سکتی ہی
سوال: میں سمجھتی ہُوں کہ میں عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہونے کی حد پر پہنچ رہی ہُوں جیسا کہ میں اپنی عمر کے پنتالیسویں (45) سال کے قریب ہُوں اور مجھے گزشتہ 6ماہ سے ماہوار ی نہیں آرہی ہے ۔کیا مجھے اب بھی مانع حمل کی ضرورت ہے؟
جواب: مانع حمل کا استعما ل سِن یاس (عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہونے)تک ضروری ہے ۔مانع حمل کا استعمال اُس وقت تک جاری رکھنا چاہئے جب تک متعلقہ عورت کو ماہواری آنا بند ہوجائے یا 12 ماہ تک ماہواری کا خون نہ آئے۔
جواب: دوا طلب کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ کہیں جنسی عدم فعالیت تو نہیں مثلأٔ عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کی کیفیت۔کیوں کہ جنسی عدم فعالیت کا ایک بڑا سبب ذہنی تشویش بھی ہوتی ہے،لہٰذا یہ جاننا ضروری ہو گا کہ آیا آپ کے تعلقات کی نوعیت باقاعدہ ، مستقل اور صحت مند ہے۔ جنسی سرگرمی کی تکمیل کے لئے عضو تناسل میں مطلوبہ تناؤحاصل کرنے اور اِسے قائم رکھنے میں مسلسل طور پر یا بار بار ناکامی ہونے کی کیفیت کو جنسی عدم فعالیت کہا جاتا ہے۔ درجِ ذیل سوال نامہ جنسی عدم فعالیت کی تشخیص کے لئے استعما ل کیا جاتا ہے: براہِ کرم گزشتہ6ماہ سے متعلق درجِ ذیل 5 سوالات کے جوابات دیجئے مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے
مزید معلومات اور علاج کے لئے ،براہِ کرم03005550166پررابطہ کیجئے ۔
. جنسی ملاپ کے دوران ،دخول کے بعد کتنی بارآپ کے عضو تناسل میں تناؤ قائم رکھناکس قدر دُشوار ہوتا تھا؟
1 بہت زیادہ مشکل۔
2 بہت مشکل۔
3 مشکل۔
4 کسی قدر مشکل۔
5 مشکل نہیں ہوتا تھا۔
5. جنسی ملاپ کرنے کی صورت میں ،آپ کے لئے یہ کتنی بار تسلّی بخش ہوتا تھا؟
1 تقریبأٔ کبھی نہیںکبھی نہیں۔
2 چند بار (آدھی تعداد سے بھی کافی کم مرتبہ)۔
3 بعض اوقات (تقریبأٔ آدھی تعداد کے برابر)۔
4 اکثر اوقات (آدھی تعدا سے کافی زیادہ مرتبہ)۔
5 تقریبأٔ ہمیشہ /ہمیشہ۔
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے حوالے سے آپ کے حاصل کردہ اِسکور کی تفصیل یہ ہے:
17سے 21: ہلکا درجہ۔
12سے 16: ہلکے سے درمیانہ درجہ۔
8سے 11: درمیانہ درجہ۔
5سے 7: شدید درجہ۔ اگر آپ اپنی کیفیت سے بہت پریشان ہیں اور اِس کی وجہ سے آپ کے اپنی ساتھی کے ساتھ تعلقات متاثر ہو رہے ہیں تو آپ کوٹ سے رابطہ کرنا چاہئے۔
آپ کی جنسی صحت کو بہتر بنانے کے لئے ہم آپ کے طرز زندگی میں بعض تبدیلیاں بھی تجویز کرتے ہیں۔
1. جاگنگ اور تیز چال، ترکِ تمباکو نوشی اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے ذریعے ،دِل اور شریانوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے ۔اِس طرح بہت سے مَردوں کی جنسی سرگرمیوں میں بہتری آجاتی ہے۔
2. ذہنی تشویش کو کم کیجئے۔یہ مقصد کارکردگی سے متعلق تشویش کو کم کرنے کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے ،یعنی ایک دُوسرے کو لطف فراہم کرنے کے لئے کارکردگی پر مبنی طریقوں اور جنسی اعضاء کے استعمال کے علاو ہ دیگر طریقے اختیار کئے جائیں ۔اِس طرح عضو تناسل کے قوی تناؤ کی ضرورت کے لئے ذہنی دباؤ کم ہوجاتا ہے۔
3. اپنے موجودہ جنسی مسئلے کو اپنی تولیدی صلاحیت کا خاتمہ تصور نہ کیجئے ۔اپنی بیوی سے بات کیجئے ،اُسے بات سمجھائیے اور پریشان نہ ہوں اور معذرت خواہ روّیہ اختیار نہ کیجئے۔
اگر طرز زندگی میں تبدیلیاں آپ کے لئے مؤثر ثابت نہ ہوں تو، آپ کوھم سے رابطہ کرنا چاہئے۔یہ ویب سائٹ مشاورتی خدمات اور علاج فراہم کرتی ہے ۔
سوال: میری ماہواری بے قاعدگی سے کیوں آتی ہے؟
جواب: یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آیا آپ کی ماہواری بے قاعدگی سے آتی ہے ،آپ کو 6ماہ کے لئے ایک ڈائری رکھنا چاہئے جس میں درجِ ذیل اُمورکے بارے میں لکھا جائے۔ ٭ پہلی بار ماہواری آنے پر عمر کتنی تھی۔
٭ ماہواری شروع ہونے اور ختم ہونے کی تاریخیں۔
٭ استعمال کئے جانے والے سینیٹری پیڈز کی تعداد۔
٭ ماہواری سے پہلے یا اِس کے دوران یا اِ س کے بعد ہونے والا درد یا اخراج۔
اِن اُمور کو نوٹ کرنے سے معلوم ہوجائے گا کہ کیا آپ کی ماہواری میں واقعی کوئی بے قاعدگی یا خلافِ معمول بات ہے یا نہیں ۔
ماہواری میں بے قاعدگی کی صورت میں درجِ ذیل کیفیات شامل ہو سکتی ہیں:
٭ مقدار : ہر تین گھنٹے بعد ایک پیڈ یا ٹیمپون کا استعمال معمول کے مطابق ہے۔
٭ ماہواریوں کے درمیان وقفہ: ایک ماہواری سے دُوسری ماہواری کے درمیان ، 21 سے 35 دِن کا وقفہ معمول کے مطابق ہے ۔
٭ خون آنے کی مُدّت : ایک سے سات دِن تک معمول کے مطابق ہے۔
٭ پہلی بار ماہواری آنے کی عمر: 10 سے 16 سال کی عمر کے درمیان معمول کے مطابق ہے۔ ماہواری کی بے قاعدگی کے بعض اسباب میں،بچّہ دانی کی بناوٹ میں خرابی، ذہنی دباؤ، ہارمونز کا عدم توازن، انفکشنز، ادویات (مثلأٔ مانع حمل ادویات)، حمل اور اسقاط حمل کے مسائل اور دِیگر طبّی معاملات شامل ہیں ۔
اِ س بات کے معنیٰ یہ ہیں کہ ماہواری میں بے قاعدگی کی تشخیص سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اِس حوالے سے کون سی باتیں معمول کے مطابق شُمار ہوتی ہیں۔مختلف صورتوں میں علاج بھی مختلف ہوتے ہیں اور یہ انفرادی طور پر بھی مختلف ہوتے ہیں۔لہٰذا اپنی گائینیکولوجسٹ سے تفصیلی معائنے کے لئے رابطہ کیجئے۔
سوال: مانع حمل کا کون سا طریقہ سب سے بہتر ہے؟
جواب: مانع حمل طریقے کے انتخاب سے پہلے درجِ ذیل سولات پر غور کیجئے اور ان کے جوابات دیجئے۔
٭ گائینیکولوجی کے حوالے سے ماضی کے یا موجودہ مسائل : مثلأٔ بیضہ دانیوں کی گلٹیاں ،نَلوں میں قائم ہونے والا حملوغیرہ۔
٭ ماہواری کی ہسٹری:
آپ کی ماہواری کتنے دِن تک جاری رہتی ہے، دَو ماہواریوں کے درمیان کتنے دِن گزرتے ہیں؟
کیا آپ کی ماہواری بے قاعدگی سے آتی ہے؟
ماہواری کا خون کتنے دِن جاری رہتا ہے؟
آپ کتنے پیڈز استعمال کرتی ہیں؟ ماہواری کا خون زیادہ آتا ہے یا کم؟
کیا آپ کو ماہواری کے دِنوں میں درد محسوس ہوتا ہے؟
٭ حال میں یا ماضی میں ہونے والے پیڑو کے انفکشنز یا جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفکشنز۔
٭ طبّی مسائل: شریانوں کے امراض، جگر کے امراض، ذیابیطیس، بلڈ پریشر ،دِ ل کے امراض، دِل کی بناوٹ میں نقائص، سرطان اور دِیگر طبّی مسائل۔
٭ حال میں لی جانے والی ادویات:
٭ تمباکو نوشی (کی جاتی ہے یا نہیں)۔
٭ کیا جنسی طور پر منتققل ہونے والے انفکشنز سے تحفظ کی ضرورت ہے ؟
٭ آئندہ حمل کی خواہش ہے؟
٭ فی الوقت حمل کو مؤخر کرنے کی اہمیت ؟
٭ مانع حمل اشیاء یا طریقوں کے استعمال پر مَرد ساتھیوں کی رضا مندی؟
مانع حمل کے بہت سے طریقے دستیاب ہیں ،جن میں درجِ ذیل شامل ہیں: ٭ مانع حمل گولیاں (کمبائنڈ یا صِرف پراجسٹرون والی گولیاں)۔
٭ مَردوں کے استعمال والے کنڈومز۔
٭ قدرتی طریقے سے خاندانی منصوبہ بندی ۔
٭ مانع حمل انجکشنز۔
٭ جسم کے اندر رکھی جانے والی ادویات (اِمپلانٹس)۔
٭ بچّہ دانی کے اندر نظام (IUS)۔
٭ بچّہ دانی کے اندر رکھے جانے والے آلات (IUDs)۔
٭ مَردوں اور عورتوں کی نَس بندی ۔
ہر طریقے کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں ،لیکن آپ کی ضرورت کے لحاظ کوئی ایک طریقہ منتخب کیا جا سکتا ہے ۔سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ کوئی دَو بہترین طریقے منتخب کئے جائیں اور پھر اِن کے بارے میں تفصیل سے مطالعہ کیا جائے۔
تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے یا ہمارے نمائندے سے 12گھنٹے میں کسی بھی وقت بات کرنے کے لئے بِلا معاوضہ یہ ٹیلی فون نمبر ملائیے: 03005550166
سوال: فُرج سے ہونے والا معمول کا اخراج کیا ہے؟
جواب: فُرج کے اندر غدود ہوتے ہیں جو معمول کا اخراج کرتے ہیں جس کا مقصد فُرج کو چکنا رکھنا اور اِسے بیکٹیریا کے حملوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے ۔معمول کے اخراج کا رنگ شفّاف سفید اوریہ بے بُو ہوتا ہے اور اِس کے ساتھ کوئی جلن یا خارش پیدا نہیں ہوتی۔اِس کی مقدار مختلف عورتوں کے لئے مختلف ہوتی ہے اور یہ کسی پریشانی کی بات نہیں ہے ۔تاہم اِس اخراج کی رنگت میں تبدیلی ،یا ناگوار بُو پیدا ہونے اور دِیگر علامات پیدا ہونے کی صورت میں یا ماہواری کے دوران یا اِس کے بعد اخراج ہونے یا جنسی ملاپ کے بعد ہونے والے درد کے ساتھ آنے کی صورت میں طبّی معائنہ کروانا چاہئے۔
Peyronie's Disease
اِس صورت میں عضو تناسل میں تناؤ پیدا ہونے پرخم پیدا ہو جاتا ہے اور دردمحسوس ہوتا ہے۔
Fibrosis
جوڑنے والے عضلات کا معمول سے زیادہ موٹا ہوجانا۔
نَلوں میں حمل
اِس صورت میں بارآور ہونے والا انڈہ بچّہ دانی سے باہر کسی جگہ مثلأحمل کی تکمیل کے لئۓ نَل میں پیوست ہو جاتا ہے ۔
شریانوں کے امراض
اِس صورت میں جسم کے دوران خون کا نظام متاثر ہوتا ہے جس میں شریانوں، نَسوں اور خون کے امراض شامل ہو سکتے ہیں لہٰذا دوران خون متاثر ہوتا ہے ۔
سوال: میراخیال ہے کہ میری فُرج کی بناوٹ خلافِ معمول ہے ۔اِس کا کوئی حل ہے؟
جواب: بہت سے افراد کو اپنے جسم کے بارے میں شُبہ ہوتا ہے۔زنانہ جنسی اعضاء بھی جسم کے دِیگر اعضاء کی طرح انفرادی طور پر مختلف بناوٹ کے حامل ہوتے ہیں ۔فُرج کی بناوٹ اور جسامت ہر عورت کے لئے مختلف ہوتی ہے ۔لہٰذا فُرج کی کسی بھی جسامت یا بناوٹ کو غیر معیاری نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ہر عورت مختلف ہوتی ہے۔جب تک آپ کو کوئی جسمانی مسئلہ درپیش نہ آئے تواپنی فُرج کی بناوٹ کو خلافِ معمول
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.