سیکس ایجوکیشن ، مردانہ مسائل

سیکس ایجوکیشن ،  مردانہ مسائل

اکثر پوچھے جانے والے سوالات



سوال: عضو تناسل کی معمول کی لمبائی کتنی ہوتی ہے ؟کیا عضو تناسل کی لمبائی میں اِضافہ کرنے والی کوئی کریم یا دوا دستیاب ہوتی ہے؟


        جواب: معمول کے مطابق انفرادی طورعضو تناسل کی جسامت اور بناوٹ میں فرق ہوتا ہے ،اورعضو تناسل کی لمبائی میں بعض مخصوص تحریکوں کے لحاظ سے اِضافہ یا کمی بھی واقع ہو سکتی ہے۔ عام طور پر عضو تناسل کی لمبائی میں اِضافہ اِس کے تناؤ کی وجہ سے ہوتا ہے ،اِس کے علاوہ آرام اور سکون کی حالت میں ،عضو تناسل کی لمبائی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اِسی طرح ذہنی تناؤ ،ٹھنڈی ہَوا یا ٹھنڈے پانی کے اثر سے عضو تناسل سُکڑ جاتا ہے ۔مختلف مَردوں میں عضو تناسل کی بناوٹ بھی مختلف ہوتی ہے جو کہ تیاری کی حالت میں 4 سے 6 انچ تک ھو سکتی ھے ۔اکثر صورتوں میں معمول کی جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے عضو تناسل میں خم بھی پایا جاتا ہے۔عضو تناسل کی لمبائی بڑھانے کے لئے  پمپ اورموٹائی کے لیے طلاء کریم  کیپسول دستیاب ہیں اس کے لیے03005550166پر رابطہ کریں ،مگر  یاد رہے بازاری دوا بلکل قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہے۔


        جواب: مختلف افراد میں ،نارمل عضو تناسل کی جسامت اور بناوٹ مختلف ہوتی ہے ۔ بہت سی صورتوں میں جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے عضو تناسل کی بناوٹ میں خم پایا جاتا ہے ۔اور عضو تناسل کا یہ خم کوئی غیر نارمل بات نہیں۔اِس کی وجہ سے منی کے جرثوموں کو فُرج کے اندر پہنچانے میں مدد حاصل ہوتی ہے ۔عضو تناسل کا یہ خم صِرف اُس صورت میں مسئلہ کا سبب بنتا ہے ہے جب اِس کی وجہ سے جنسی ملاپ میں خلل واقع ہو۔

        عضو تناسل کا شدید خم ،جب اِس میں تناؤ نہ ہونے کی صورت میں بھی کوئی سخت چیز محسوس ہوتی ہو تو اس حالت کو Peyronie's Disease کہا جاتا ہے ۔یہ حالت موروثی بھی ہو سکتی ہے اور چوٹ یا صدمے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے ۔یہ چوٹ یا صدمہ پُر تشدد جنسی ملاپ یا کسی زخم کا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔ایسی صورت میں عضو تناسل کے اندر مذکورہ سختی (سخت سی چیز) fibrosis کی وجہ سے ہوتی ہے،اور اِس سے عضو تناسل کے عضلات کی لچک متاثر ہوتی ہے اور تناؤ کی حالت میں عضو تناسل میں خم پیدا ہوتا ہے ۔نتیجے کے طور پر عضو تناسل کا تناؤ اور جنسی ملاپ دونوں تکلیف دہ عمل بن جاتے ہیںاور متعلقہ فرد کو اِس کا علاج کروانا پڑتا



        جواب: سُرعت انزال اور ذکاوت حس بھی ایسی صورت کو کہتے ہیں جب معمولی جنسی تحریک کے نتیجے میں،دخول سے پہلے ،دخول کے ساتھ ہی یا دخول سے تھوڑی دیر بعد ، مستقل طور پر یا باربار انزال ہو جائے اِس سلسلے میں مختلف سطحوں پر علاج دستیاب ہیں یعنی نفسیاتی، کسی مَرد کو جلد انزال ہو جائے اور اِس سے چند منٹ بعداُس کے عضو تناسل میں دُوبارہ تناؤ پیدا ہو جانے کی صورت میں اُسے زیادہ بہتر کنٹرول محسوس ہو گا۔لہٰذا ٭ بعض معالجین، مَردوں(خاص طور پر نو عمر مَردوں کو) کو،جنسی تعلق اختیار کرنے سے ایک سے دَو گھنٹے پہلےاپنی ساتھی سے تیز تر جنسی تحریک کے ذریعے جذباتی عروج حاصل کرنے کا  کرنے کامشورہ دیتے ہیں ۔ 

 ٭ دُوبارہ جذباتی عروج حاصل کر نے کے لئے عام طور پر کافی وقت درکار ہوتا ہے ،اِس طرح مَرد کافی بہتر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں 

٭ بڑی عمر کے مَردوں کے لئے یہ طریقہ زیادہ مؤثر نہیں ہے کیوں کہ بڑی عمر کے مَردوں کو پہلی بار انزال کے بعد ،عضو تناسل میں دُوبارہ تناؤ حاصل کرنے میں دُشواری پیش آسکتی ہے ۔لہٰذا بڑی عمر کے مَردوں کو یہ طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ اِس طرح اُن کے اعتماد میں کمی آسکتی ہے اور ثانوی نا مَردی پیدا ہو سکتی اِس مسئلے کے حل کے لئے بازار میں بہت سی ادویات دستیاب ہیں لیکن اِن ادویات کو کسی ماہر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔روّیوں اور ادویات کے لحاظ سے علاج کیا جاتا ہے۔اِس ویب سائٹ پر روّیوں میں تبدیلی کے حوالے سے توجّہ دی جاتی ہیں۔اِس کے لئے وقت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے ،لہٰذا مستقل مزاجی سے اِن اُصولوں پر عمل کرنا چاہئے ۔ روّیوں کے علاج میں بعض مخصوص طریقوں سے عضو تناسل کی کارکردگی بڑھائی جاتی ہے۔اِس سلسلے میں ھم نے پانچ طریقے  وضع کئے یعنی ’’زیادہ مزے آنےکی صورت میں وقفہ کرنا‘‘ کگل ایکسرسائز اور ’’عضو تناسل کی بڑھی ہوئی سطحی حس کو کم کرنا مواد کو گاڑھا کرنا کہ چپک کی وجہ سے جلدی نہ بہے اور گردے کو طاقتور بنانا ‘‘ کے طریقے۔

سُرعت انزال اور ذکاوت حس کے مسلئہ کےگارنٹی سے علاج کےلیے03005550166پر ہم سے رابطہ کریں۔

سوال:میں جنسی طور پرغیر فعّال تو نہیں ہُوں  مجھے اس ماہ ماہواری نہ آئی ہے ؟

        جواب:۔ ماہوری کا نہ آنا بہت عام بات ہے جس کا لوگوں کو صحیح اندازہ نہیں ہے ۔یہ ماہواری کا نہ آنا
(amenorrhea)
کہلاتا ہے ۔غیر حاملہ عورتوں میں ماہواری کا نہ آنے کا سبب ہارمونز کا عدم توازن ہے ۔اگرچہ ہارمونز کا یہ عدم توازن،عام طور پر ، شدید تو نہیں ہوتاتاہم صحت کے لئے بعض طویل مُدّتی خطرات ہوتے ہیں جن سے علاج کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔یاد رکھئے کہ ماہوارہی کا نہ آنا ،نہ تو کوئی بیماری ہے اور یہ حاملہ ہونے کی یقینی علامت بھی نہیں ہے۔ بعض اوقات ماہواری کا نہ آنا ایک نارمل بات ہوتی ہے اور اِس کے معنیٰ یہ نہیں ہوتے کہ کوئی خرابی ہے ۔

        اگر ماہواری میں تاخیر ہو رہی ہے اور متعلقہ عورت حاملہ نہیں ہے تو عام طور پر اِس کا سبب ہارمونز ہوتے ہیں۔اِس کے معنیٰ یہ ہیں کہ متعلقہ عورت میں انڈوں کے اخراج کا عمل کسی سبب سے باقاعدگی سے نہیں ہو رہا ہے ۔ذہنی دباؤ کی وجہ سے بھی ماہواری اپنے وقت پر نہیں آتی۔ذہنی دباؤ کی وجہ سے جسم کے ہارمونز کا نارمل تناسب بگڑ جاتا ہے اور اِس وجہ سے ماہواری دیر سے آتی ہے یا کسی مہینے میں بالکل نہیں آتی۔ماہواری کا اپنے وقت پر نہ آنے کی چند خاص وجوہات میںآپ کی زندگی کی بڑی تبدیلیاں شامل ہیں مثلأٔ منتقل ہونا، نئے کام کا آغاز ، غذا میں تبدیلی ، یا ورزش کے معمولات وغیرہ ۔آپ کے وزن میں نمایاں کمی بھی کسی مہینے میں ماہواری نہ آنے کا سبب بن سکتی ہے۔  اگر یہ کیفیت چند ماہ تک جاری رہے تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔یہ مسلئہ سن یاس کی وجہ بھی ھوسکتا ھے لیکن پاکستان میں سن یاس کی عمر  40 سے 50 سال کے درمیان ھوتی ہے۔ 

        اگر تین بار سے زائد مرتبہ ماہواری نہیں آتی ہے یا فکر مندی کی علامات پائی جائیں تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے ملاقات کرنا چاہئے تاکہ اصل سبب معلوم کیا جاسکے ۔اس کے مسلئہ کےگارنٹی سے علاج کےلیے03078721785پر ہم سے رابطہ کریں۔ 

سوال: میرا خیال ہے میں کافی خود لذّتی کرتا ہُوں/کرتی ہُوں،کیا کوئی ایسا طریقہ جس کے ذریعے اِس عادت کو کنٹرول کیا جاسکے ؟


 

سوال: میرا خیال ہے میں کافی خود لذّتی کرتا ہُوں/کرتی ہُوں،کیا کوئی ایسا طریقہ جس کے ذریعے اِس عادت کو کنٹرول کیا جاسکے ؟

        جواب: ۔  اسلام میں قطعا  منع ہے ۔خودلذّتی کا عمل ایک خطرناک عمل ہے  بچپن سے اسے اختیار کرنے سےعضو کا سائز کم اور پتلا ہو جاتا ہے ۔مجبوری میں اسے تقریبأٔ تمام مَرد اور عورتیں ،اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں اختیار کرتی ہیں ۔طبّی لحاظ سے 25 برس کی عمر کے بعد،خودلذّتی کے عمل سے کوئی ذیلی اثرات نہیں ہوتے  لیکن اس عمل کی زیادتی سے بیوی سے ہمبستری کے دوران آپ لازما سرعت 

انزال کا شکار ہو جائیں گے۔تاہم اگر آپ اِس عمل سے بے چینی محسوس کرتے ہوں تو اِس عمل کو ترک کرنے کا فیصلہ آپ خود ہی کر سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اُسے ترک کردینے کے لئے صِرف آپ کی قوّتِ اِرادی اور آپ کے عزم کی ضرورت ہے ۔خود لذّتی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے چند تجاویزدرجِ ذیل ہیں۔

        1 اِس بات کافیصلہ کیجئے کہ خودلذّتی کے عمل  کے بارے میں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔یہ عمل اُس صورت میں مسئلہ بن جاتا ہے جب اِس کی وجہ سے آپ کی زندگی اور آپ کے تعلقات پرروز مرّہ منفی اثرات مُرتّب ہو رہے ہوں۔اگر خود لذّتی کے عمل میں بہت زیادہ وقت صَرف ہورہاہے اور دِیگر اہم کاموں کے لئے وقت نہیں بچ رہا ہو تو آپ کو اپنی عادت تبدیل کرنی چاہئے ۔

        2 آپ کو اِس کا سبب معلوم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے ۔آپ کو معلوم کرنا ہوگا کہ خود لذّتی کا عمل بہت زیادہ کرنے کا سبب کیا ہے ۔اگر آپ خود لذّتی کے عمل کو صِرف روکنے کی کوشش کریں گے تو اِس عادت کے دوبارہ پلٹ آنے کے اِمکانات بہت زیادہ ہوں گے۔لہٰذا کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ خود لذّتی کا عمل کیوں کرتے ہیں ؟شاید آپ کے سامنے یہ بات آئے کہ آپ بوریت ختم کرنے،ذہنی تناؤ سے نجات حاصل کرنے،یا اپنی تنہائی ختم کرنے کے لئے ،خودلذّتی کا عمل کرتے ہیں ۔

        ذہنی طور پر پُرسکون ہوجائیے اور غور کیجئے کہ آپ کو خود لذّتی کے عمل کی ضرورت کیوں محسوس کرتے ہیں۔آپ کس بات سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ علامات پر توجّہ نہ دینے کی کوشش کیجئے۔خود لذّتی کا عمل کرنے کا حقیقی سبب یہ نہیں ہے کہ اِس کے ذریعے مُسّرت کے احساسات پیدا ہوتے ہیں ۔اپنی ذات کا گہرا جائزہ لیجئے ۔ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنے جذبات کو سمجھنے کے لئے،علاج کی ضرورت پیش آئے۔

       5 یہ بات معلوم کیجئے کہ دِن کے کن حِصّوں میںسب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ۔دِن کے ایسے حِصّوں کے بارے میں جاننے سے آپ کو خود لذّتی کے عمل پر قابو پانے میں مدد مِل سکتی ہے۔ایسا منصوبہ بنائیے جو دِ ن کے سب سے مشکل حصّوں سے نمٹ سکے ،مثلأٔ جب آپ رات کے وقت لیٹتے ہیں تو آپ کو بڑی کوشش کرنا پڑتی ہے ۔آپ کو ورزش کے ذریعے مَردانہ ہارمون ٹیسٹوس ٹیرون کی سطح کو کم کرنے کی کوشش کرنا چاہئے ۔ورزش سے آپ کے تناؤ کو کم کرنے میں مدد مِل سکتی ہے اور آپ کو نیند جَلد آسکتی ہے ۔ایسے اوقات معلوم کیجئے جب آپ کو سب سے زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

        6 چند ایسے طریقے معلوم کرنے کی کوشش جن کے ذریعے ہر دِن آپ کی شخصیت نئی اور بہتر ہوجائے۔آپ زیادہ پُر اعتماد ہوجائیں گے اور باہر جا سکیں گے۔آپ کو اپنے سوچنے کا انداز ہر روزضرور تبدیل کرنا چاہئے۔آپ اپنے آپ سے خوش ہوجائیں گے خواہ یہ بات شروع میں عجیب معلوم ہو۔

        7 اپنی عادات کو تبدیل کیجئے ۔اگر آپ بوریت کی کیفیت کوکافی وقت جاری رکھتے ہیں اور صِرف عریاں فلمیں دیکھتے رہتے ہیں ،تو خود لذّتی کی عادت پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا ۔اپنے گھر سے باہر نکلئے اور لوگوں سے ملاقات کیجئے۔جنسی تناؤ کو ختم کرنے کے لئے کوئی دُوسرا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کیجئے ،او ردُوسرے افراد سے صحت مند تعلقات قائم کرنے کی کوشش کیجئے۔

        8 متبادل منصوبہ رکھئے ۔جب خود لذّتی کرنے کی خواہش کا زور ہو توکچھ اور کرنے کا متبادل منصوبہ ہونا اہم بات ہے ۔خود لذّتی کے خیالات کو ،ربر بینڈکے ذریعے چَوٹ لگانے سے ہٹایا جاسکتا ہے ۔مقصد خود کو نقصان یا چَوٹ پہنچانا نہیں ہے بلکہ اپنے ذہن سے خود لذّتی کا خیال دُور کرنے کا اِمکان پیدا کرنا ہے۔

        ٭ اگر آپ کو بستر پر جانے پر خود لذّتی کا عمل کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو پہلے ،ورزش کیجئے اور توانائی صَرف کیجئے ۔کوشش ترک نہ کیجئے! آپ کو مدد کی ضرورت پیش آسکتی ہے ،لیکن مثبت انداز میں سوچنے کی کوشش کیجئے اور خود کو یقین دِلائیے کہ آپ خود لذّتی کی عادت کو چھوڑ سکتے ہیں اور اِسے چھوڑدیں گے۔

        ٭ یاد رکھئے کہ اصل مسئلہ آپ کے ذہن میں ہے ،اگر آپ چاہیں تو ایک قِسم کے خیالات کو دوسری قِسم کے خیالات سے تبدیل کر سکتے ہیں۔آپ میں اِسے روکنے کی قوّت موجود ہے۔

        ٭ اپنے کمپیوٹر کو ایک ایسی جگہ رکھ دیجئے جہاں دُوسرے لوگ بھی اِسے دیکھ سکتے ہوں،اِس طرح عریاں فلمیں دیکھنے کے دوران خود لذّتی کا عمل کرنے کی عادت کو روکنے میں مدد مِل سکتی ہے ۔

        ٭ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے کمپیوٹر پر ایسا سوفٹ وےئر /پروگرام ڈالنا چاہتے ہوں جس کی وجہ سے عریاں فلمیں دیکھنا ممکن نہ رہے۔خواہ آپ کو اِس سوفٹوئیر/پروگرام کو روکنے کا پاس ورڈ معلوم ہو، تب بھی آپ کو یہ خیال ضرور آئے گا کہ آپ کو کچھ اور کرنا چاہئے۔

        ہمت مرداں مدد خدا ٭ خود لذّتی کے عمل سے ایکدم گریز کرنے کی کوشش نہ کیجئے پہلے صِرف اِس کی تعدا کو کم کرنے کی کوشش کیجئے تاکہ آپ آہستہ آہستہ اس پر قابو پالیں ۔

سوال: کیا خودلذّتی ایک نقصان دہ عمل ہے؟

        جواب: خود لذّتی ایک عام روّیہ ہے  مگر 25 سال کی عمر سے قبل اس کا بہت نقصان ہے عضو پتلا اور لمبائی رک جاتی ہے۔ اس عمل کو تقریبأٔ ہر مرد اور عورت اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اختیار کرتے ہیں۔خود لذّتی کے عمل سے طبّی لحاظ سے کافی ذیلی اثرات واقع ہوتے ہیں، تاہم یہ عمل اُس صورت یہ مسئلہ بن سکتا ہے جب: اس کی وجہ سے اپنے ساتھی/بیوی کے ساتھ کی جانے والی جنسی سرگرماں کم کر دیں ؛ شادی شدہ حضرات خود لذتی  کیو جہ سے سرعت انزال کا شکار ہو جاتے ہیں  یہ عمل  روزمرّہ کی زندگی اور سرگرمیوں میں خلل کا سبب بننے لگتا ہے۔ ۔

         جب کوئی فرد کثرت سے خود لذّتی کا عمل کرتا ہے تو اُس کے وہ خلیات مسلسل تحریک پاتے ہیں جو دِماغ میں ایسے کیمیائی اجزاء اور ہارمونز کو پیدا کرتے ہیں جو جنسی ردِّعمل کے دورانئے کے مختلف مراحل کے لئے ذمّہ دار ہوتے ہیں۔اِ س طرح اِن خلیات کا نہ صِرف اپنا عمل تیز ہوجاتا ہے بلکہ اِن کی تعداد میں بھی اِضافہ ہوجاتا ہے ،لہٰذا جب ایسا فرد خود لذّتی کا عمل کرتا ہے تو اُس کے جسم میں ایسے کیمیائی اجزاء معمول سے زیادہ بنتے ہیں اور اِن کے اثرات بھی معمول سے زیادہ ہوتے ہیں۔

        یہ کیمیائی اجزاء ہمارے جسم موجود ایک قِسم کے اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں ۔یہ اعصابی نظام parasympathetic nervous system کہلاتا ہے۔یہ اعصابی نظام عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے کا ذمّہ دار ہوتا ہے۔اِن ہارمونز کی کثرت سے ہونے والی افزائش سے parasympathetic nervous system بھی متاثرہوتا ہے جس کے نتیجے میں مَردوں میں عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

        تو یہ بات کس طرح طے ہوسکتی کہ خود لذّتی کا عمل کثرت سے کیا جا رہا ہے؟اِس بات کا جواب آسان جواب یہ ہے کہ جب متعلقہ فرد یہ محسوس کرے کہ وہ خود لذّتی کے عمل کا عادی ہوگیا ہے اور وہ یہ عمل جنسی لطف کے لئے نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی سکون کے لئے کر رہا ہے ۔یہی وہ وقت یا مرحلہ ہوتا ہے جب متعلقہ فرد کو خود کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ضرورت ہو پیشہ ورانہ مدد حاصل کی جائے۔ 



    سوال: کیا اکثرو بیشتر احتلام ہونا ایک بیماری ہے؟

        جواب:احتلام ہونا ایک فطری عمل ہے خاص طور پر نوجوانی کے دِنوں میں ۔بعض مَردوں کو احتلام ہر دوسرے یا تیسرے دِن ہوجاتا ہے یہ مرض ہے اس کا علاج لازم ہے ۔اور بعض کو غالبأٔ ہفتے میں ایک باریا مہینے میں ایک بار یا شاید کبھی نہیں ۔یہ فرق ہونا ایک نارمل بات ہے ۔لہٰذا آپ کواِس حوالے سے ، فکرمند نہیں ہونا چاہئے ۔ زیادہ تر صورتوں میں وقت گزرنے کے ساتھ یا کسی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی صورت میں، احتلام ہونے کی تعدا د میں کمی آجاتی ہے ۔اس مرض کے علاج کے لیے ہمیں کال کریں 03078721785


    سوال: جب میں جنس /جنسی ملاپ کے بارے میں سوچتا ہُوں تو میرے عضو تناسل سے چند قطرے خارج ہوجاتے ہیں ۔کیا یہ کوئی مرض ہے؟

        جواب: جن قطروں کی آپ بات کررہے ہیں اُنہیں مذی  کہا جاتا ہےیہ قطرے انزال سے پہلے کے شروع یا درمیان میں آتےہیں ۔اِس رطوبت کا مقصد پیشاب کی نالی کو چکنا کرنا ہے تاکہ کسی ممکنہ جنسی سرگرمی کے لئے مناسب تیاری ہوجائے ۔فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ عمل بالکل فطری عمل ہوتا ہے ۔مذی مرد کی طاقت ہے جو ہر مرتبہ شہوت کے بعد آتے ہیں۔


    مردوں کے امراض • نر کا تولیدی نظامMale reproductive system • خصیے (Testis) 

اسے عام طور پر فوطہ ، ٹٹا، اور خصیہ کہا جاتا ہے. یہ دو چھوٹی بیضوی شکل کی منی پیدا کرنے والی سفید گلٹیاں ہیں. ہر ایک خصیہ پر چھ غلاف ہوتے ہیں. ہر ایک خصیہ جوانی میں ڈیڑھ انچ لمبا، ایک انچ چوڑا اور سوا انچ موٹا اور اس کا وزن تقریباً نصف چھٹانک ہوتا ہے. بایاں خصیہ نسبتاً بڑا ہوتا ہے. ان کی اندرونی رطوبت مرد میںہارمونز پیدا کرتی ہے اور سیدھی خون میں شامل ہوتی ہے. بیرونی رطوبت میں منی ہوتی ہے جومنوی ڈوری (نالیوں )کے ذریعے جاکر اوپر جمع ہوتی رہتی ہے. مرد کے انزال کے وقت مثانہ کا منہ بند ہوجاتا ہے تاکہ منی پیشاب سے متاثر نہ ہو۔ • ایپی ڈائی ڈیمس (Epididymis) خصیوں کی خلفی سطح سے ملحق جسم، یہ ٹیوبولز پر مشتمل ہوتا جس کے ذریعے کرم منی (Spermatozoa)خصیوں سے حبل المنی تک منتقل ہوتے ہیں اور یہ شکل میں مستطیل نما ہوتا ہے۔ • حبل المنی (Vasa defrensia)خصیے کی اخراجی نالی ، ان کی تعداد دو ہوتی ہے. ہر نالی تقریباً دو فٹ لمبی ہوتی ہے. خصیوں میں منی پیدا ہوکر ان نالیوں کے ذریعے کیسۂ منی میں میں جا کر جمع ہوجاتی ہے۔ • اسکروٹم (Scrotum) نر میں یہ تھیلی پائی جاتی ہے اور اس کو صفن کہتے ہیں. اس کے اندر نر کے دونوں خصیے ہوتے ہیں۔ • کیسۂ منی (Seminal vesicles) یہ دو ٹیوبولر غدود ہیں جو مرد کے مثانہ کے پیچھے ہوتے ہیں. اس کی قنات حبل المنی سے ملتی ہیں اور انزالی قنات بناتی ہیں. کیسۂ منی کا سیال، منوی سیال کا ایک خاص جزو ترکیبی ہے۔ • غدۂ قدامیہ (Prostate gland)مرد میں مثانہ کی گردن اور پیشابی راستے کو چاروں طرف سے گھیرنے والا، تین لختے والا ایک غدودجو قناتوں کے ذریعے پیشابی راستے کے پروسٹیٹ والے حصے میں کھلتا ہے. اس سے ایک پتلا اور ہلکا الکلائن سیال ریزش کرتا ہے جس سے منی کا ایک حصہ بنتا ہے۔ • منوی ڈوری (Spermatic cord) ایک ڈوری جو بطنی پیغولی حلقے کو خصیوں سے جوڑتی ہے اور حبل المنی، خونی رگوں، لمفی رگوں اور اعصاب سے ملکر بنتی ہے جو خصیوں اور ایپی ڈائی ڈیمس کی تکمیل کرتی ہے۔ • قضیب (Penis)اعضائے تناسل میں قضیب کو خاص اہمیت حاصل ہے. یہ وہ مخصوص عضو ہے جس کے ذریعے مرد کا مادۂ تولید عورت کی بچہ دانی تک پہنچتا ہے. اس کی بناوٹ میں شرائین، وریدیں، اعصاب، جھلیاں، جسم اسفنجی اور نالی شامل ہیں۔ • احتلامNocturnal emission • تشخیص:بچپن کی نا زیبا حرکتوں کے سبب اکثر یہ مرض پیدا ہوجاتا ہے. رات کے خواب میں عورت کا دیدار ہوکر انزال ہوجاتا ہے. کبھی کبھی بغیر خواب دیکھے ہی احتلام ہوجاتا ہے، جسمانی کمزوری، سستی، پیشاب کا سوزش کے ساتھ آنا، کمر درد، برے خیال، کافی عمر تک کنوارا رہنا، فحش ناولیں وغیرہ پڑھنا، عورتوں کے درمیان زیادہ رہنا، ناچ، گانے اور گندی فلمیں دیکھنا، کھٹائی مرچ مسالہ کثرت سے استعمال کرنا، دن میں سونا، رات کو کافی دیر تک جاگنا، سوتے وقت زیادہ پانی پینا، سوتے وقت گرم گرم دودھ پینا اور پیتے ہی سوجانا. اگر مہینے میں ایک دو بار احتلام ہوجائے تو کوئی مرض نہیں ہے۔ • • ہدایات و تدابیر: (١)سوتے وقت مریض زیادہ پانی نہ پیئے۔ • (٢)زیادہ گوشت، مرچ ، مسالہ، چای کافی اور منشیات سے پرہیز کرے۔ • پیشاب کر کے سویا کرے۔ • برے خیالات و افکار سے پرہیز کرے۔ • جریانSpermatorrhoea • تشخیص: جوانوں میں یہ مرض آج کل بہت زیادہ ہے. مشت زنی اس کا اہم سبب ہے. پاخانہ کرتے وقت زور لگانا، قبض سے پاخانہ آنے کی وجہ سے پیشاب کے ساتھ پہلے یا بعد میں منی خارج ہوجاتا ہے، مرض بڑھ جانے پر معمولی رگڑ، سائیکل اور گھوڑے کی سواری اور عورت کا خیال کرتے ہی انزال ہوجاتا ہے، کمر درد، سستی، جسمانی کمزوری، کام کرنے کو دل نہ چاہنا وغیرہ اس مرض کی اہم علامات ہیں۔ • (١) اس مرض میں کثرت احتلام کی طرح علاج کیا جائے. جب احتلام اور جریان کی بیماری دور ہوجائے تو منی کو گاڑھا کرنے ۔ • سرعت انزالPremature ejaculation • تشخیص: یہ بہت ہی مایوس کن مرض ہے. جب مرد اپنی بیوی سے مباشرت کرنا چاہتا ہے تو جماع کرنے سے پہلے یا جماع کرتے ہی فوراً انزال ہوجاتا ہے، مرض زیادہ بڑھ جانے پر عورت کے پاس جاتے ہی انزال منی ہو کر قضیب ڈھیلا ہوجا تا ہے اور مرد کو عورت کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ہے، عورت کی خواہش پوری نہیں ہو پاتی ہے اس لئے وہ شوہر سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ • اسباب: یہ مرض بچپن کی بری عادتوں کے سبب یا غیر مناسب اور غیر طبعی جنسی افعال کی انجام دہی سے پیدا ہوتا ہے. جریان اور کثرت احتلام کے اسباب، منی کا پتلا ہوجانا، منی کی زیادتی، زکاوت حس اور سوزاک وغیرہ ہیں۔



No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.